30 ستمبر 2012 - 20:30

سعودی عرب کے نواسی سالہ بادشاہ کی علاج کے لئے بیرون ملک روانگی اور ایک سال میں تیسرے سعودی شہزادے کی موت نے  اس ملک کو سیاسی حوالے سے ایک مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔

ابنا: سعودی بادشاہ کے بھائی اور عبدلعزیز کے بتیسویں بیٹے ھزلول بن عبدالعزیز ستر سال کی عمر میں سوئٹزر لینڈ میں وفات پا گۓ ہیں اس سے پہلے ان کے دو بھائی سلطان اور نایف بھی اسی سال انتقال کے چکے ہیں۔یہ دونوں ولی عہد تھے۔ ھزلول بن عبدالعزیز کی موت سلطان اور نایف کی طرح زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہے لیکن ایسے حالات میں جب بادشاہ خود بھی مریض ہو ،ولی عہد بھی یکے بعد دیگرے مر رہے ہوں اسکے ساتھ ساتھ نئی نسل کے شہزادوں میں بھی اقتدار کی ہوس اور جنگ زوروں پر ہو توایسے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام ہونا ایک قدرتی امر ہے ۔ملک میں سیاسی عدم استحکام اس وقت مزید شدید ہو جاتا ہے جب عوام بھی مخالفت پر اتر آئیں۔سعودی عرب جو خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے اس وقت اسی طرح کی سیاسی صورت حال سے دوچار ہے۔سعودی بادشاہ عبداللہ کے گذشتہ کچھ عرصے ميں کئی بار آپریش ہو چکے ہیں اور سعودی عرب کے آگاہ ذرائع کے مطابق ان مسلسل آپریشنوں کے بعد سعودی فرمانروا اس قابل نہیں ہیں کے ملکی امور آسانی سے چلا سکیں۔ شاہ عبداللہ نے ملک سے باہر جاتے وقت سلمان بن عبدالعزیر جوکہ ولی عہد بھی ہیں کو ملک کے تمام امور سونپے ہیں شاہ عبداللہ کے مختلف بھائی جن کے پاس ملک کے اہم امور ہیں بڑھاپے کی وجہ سے ایک ایک کر کے شاہی نظام کے دائرے سے خارج ہو رہے ہیں۔سعور الفیصل  جو کافی عرصے سے سعودی عرب کے خارجہ امور کو اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں اسقدر مریض ہیں کہ ان کی بیماری کی وجہ سے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔۔ان حالات میں آل سعور کے شہزادوں کی نئی نسل اپنے آپ کو نئی صورت حال کے لئے تیار کر رہی ہے جس میں شہزادوں کی باہمی چپقلشوں اور لڑائیوں میں اضافہ یقینی امر ہے۔کہا جارہا ہے کہ ان شہزاروں  کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے سلمان بن عبدالعزیز سب سے زیادہ متحرک ہیں۔دوسری طرف سعودی عرب  کے مشرقی علاقوں میں عوامی احتجاجوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔عوام کی طرف سے بد عنوانی اور امتیازی رویوں کے خاتمے نیز حکومتی نظام میں اصلاحات لانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے ۔سعودی حکومت ان عوامی مظاہروں کو سختی سے کچل رہی ہے اور یہ حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے امریکہ کے حکومتی اور سلامتی کے ادارے سعودی عرب کے موجودہ حالات سے سخت پریشان ہیں۔امریکی اچھی طرح جانتے ہیں کہ شاہ عبداللہ کی موت اور شہزادوں کی باہمی چپقلش سعودی عرب کو ایسی صورت حال کی طرف لے جارہی ہے جو ہر گز امریکہ کے مفاد میں نہیں۔سعودی عرب میں آل سعود کے بیس ہزار سے زیادہ افراد کے درمیان جنگ و جدل کے نتیجے میں سعودی عرب سے امریکہ اور یورپ جانے والے تیل کے بارے میں امریکہ کو سخت تشویش  لاحق ہے

معروف برطانوی تجزیہ نگار کے مطابق امریکہ کو سعودی عرب پرجو ہمیشہ واشنگٹن کے زیر اثر رہا ہے پر خصوصی نظر رکھنا ہو گی کیونکہ اس ملک کے امریکہ نواز بادشاہ اور شہزادے ایک ایک کر کے اس دنیا سے جارہے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب میں اقتدار کی جنگ اور سعودی شہزادوں میں بادشاہ بننے کی دوڑ کے تناظر میں عوام کے کردار کو مد نظر رکھے بغیراس ملک کے مستقبل کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ہے ۔بلاشبہ اس ملک کی موجودہ کیفیت آل سعود کی اس طرز حکومت کا نتیجہ ہے جس میں عوام کسی بھی ملکی امور میں شامل نہیں تھے اور انہیں کسی بھی مسئلے میں اعتماد میں نہیں لیا جاتا تھا۔

.....

/169